الفارابی (Al-Farabi): ارسطو کے بعد دوسرے استاد
Abū Naṣr Muḥammad ibn Muḥammad al-Fārābī · Fārāb (Khurasan) / Baghdad / Damascus
جی ہاں۔ الفارابی مسلمانوں میں رائج نام ہے۔ اس کا رائج مطلب ہے: فاراب کی نسبت سے: خراسان میں دریائے سیحون کے کنارے واقع قصبہ جہاں ولادت ہوئی۔ اسلامی روایت نام میں اچھے معنی چاہتی ہے اور یہ کہ وہ اللہ کے مخصوص ناموں میں سے نہ ہو، اور یہ نام دونوں شرطیں پوری کرتا ہے۔
حصہ 2 · علم الحروف
حرف بہ حرف پڑھیں
علمی سوانح
الفارابی کون تھے؟
بعد کے فلسفیوں نے انہیں «المعلم الثانی»، ارسطو کے بعد دوسرا استاد: کہا۔ انہوں نے اپنے پیشروؤں کے فلسفے کو منظم کیا اور ایک مربوط مابعدالطبیعیات، سیاسی نظریہ، اور لسانیات تعمیر کی۔ ان کی «المدینۃ الفاضلہ» اسلامی سیاسی فلسفے کا پہلا اہم کام ہے۔
لغوی معنی
نام کا مطلب
فاراب کی نسبت سے: خراسان میں دریائے سیحون کے کنارے واقع قصبہ جہاں ولادت ہوئی
علمی ورثہ
الفارابی نے کیا چھوڑا
ابن سینا فارابی کا احسان مانتے ہیں کہ چالیس ناکام مطالعات کے بعد ارسطو کی مابعد الطبیعیات انہی کے ذریعے ان پر کھلی۔ ابنِ میمون فارابی کی منطقی تصانیف کو ارسطو کی تصانیف کے بعد دوسرے درجے پر رکھتے تھے۔ فلسفی-نبی کا ان کا تصور، یعنی وہ رہنما جس کی بصیرت عقلی بھی ہو اور وحیانی بھی، بعد کی پوری روایت میں جاری رہتا ہے۔