حسيب , حسیب: حساب لینے والا، کافی ہو جانے والا؛ اللہ کا نام «الحسیب» بھی
حسيب تین طرح پڑھیں , اس نام کا مطلب، اس کے حروف کا اشارہ، اور اس کی حامل سے کیا تقاضا۔
لغوی معنی
حسيب کا کیا مطلب ہے
حسيب (Haseeb) کا مطلب ہے: حسیب: حساب لینے والا، کافی ہو جانے والا؛ اللہ کا نام «الحسیب» بھی۔
جی ہاں۔ حسیب مسلمانوں میں رائج نام ہے، اس کا اصل عربی ہے۔ اس کا رائج مطلب ہے: حسیب: حساب لینے والا، کافی ہو جانے والا؛ اللہ کا نام «الحسیب» بھی۔ اسلامی روایت نام میں اچھے معنی چاہتی ہے اور یہ کہ وہ اللہ کے مخصوص ناموں میں سے نہ ہو، اور یہ نام دونوں شرطیں پوری کرتا ہے۔
حصہ 2 · علم الحروف
حرف بہ حرف پڑھیں
عربی جذر
حسيب کا جذر
اس نام کا عربی جذر «ح-س-ب» ہے۔ اسی جذر سے وہ الفاظ نکلتے ہیں جو اس کے بنیادی مفہوم کے گرد گھومتے ہیں، اور نام کا مطلب یہیں سے آتا ہے: حسیب: حساب لینے والا، کافی ہو جانے والا؛ اللہ کا نام «الحسیب» بھی۔
حروف کا مطلب
حسيب کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
حا زندگی اور سانس؛ سین سکون اور راز؛ یا ہاتھ اور تعلق؛ با گھر اور برتن کا حرف۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
نام کا آغاز حا زندگی اور سانس سے ہوتا ہے اور اختتام با گھر اور برتن کا حرف پر۔ یہ قراءت آغاز کو انجام سے جوڑتی ہے، اور نام والے سے یہ چاہتی ہے کہ وہ اپنے نام کا مطلب صرف کہے نہیں، جی کر دکھائے: حسیب: حساب لینے والا، کافی ہو جانے والا؛ اللہ کا نام «الحسیب» بھی۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔