ضمير , ضمیر: باطن اور وجدان؛ بوسنیائی اور تاتاری روایت
ضمير تین طرح پڑھیں , اس نام کا مطلب، اس کے حروف کا اشارہ، اور اس کی حامل سے کیا تقاضا۔
لغوی معنی
ضمير کا کیا مطلب ہے
ضمير (Damir) کا مطلب ہے: ضمیر: باطن اور وجدان؛ بوسنیائی اور تاتاری روایت۔
جی ہاں۔ ضمیر مسلمانوں میں رائج نام ہے، اس کا اصل عربی ہے۔ اس کا رائج مطلب ہے: ضمیر: باطن اور وجدان؛ بوسنیائی اور تاتاری روایت۔ اسلامی روایت نام میں اچھے معنی چاہتی ہے اور یہ کہ وہ اللہ کے مخصوص ناموں میں سے نہ ہو، اور یہ نام دونوں شرطیں پوری کرتا ہے۔
حصہ 2 · علم الحروف
حرف بہ حرف پڑھیں
عربی جذر
ضمير کا جذر
اس نام کا عربی جذر «ض-م-ر» ہے۔ اسی جذر سے وہ الفاظ نکلتے ہیں جو اس کے بنیادی مفہوم کے گرد گھومتے ہیں، اور نام کا مطلب یہیں سے آتا ہے: ضمیر: باطن اور وجدان؛ بوسنیائی اور تاتاری روایت۔
حروف کا مطلب
ضمير کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
ضاد ضیا اور وسعت؛ میم رحم اور محبت کی آغوش؛ یا ہاتھ اور تعلق؛ را حرکت و روانی۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
نام کا آغاز ضاد ضیا اور وسعت سے ہوتا ہے اور اختتام را حرکت و روانی پر۔ یہ قراءت آغاز کو انجام سے جوڑتی ہے، اور نام والے سے یہ چاہتی ہے کہ وہ اپنے نام کا مطلب صرف کہے نہیں، جی کر دکھائے: ضمیر: باطن اور وجدان؛ بوسنیائی اور تاتاری روایت۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔