سُمَيَّة
مسلم لڑکیوں کا نام  ·  علم الحروف کی قراءت

سُمیّہ — چھوٹی، محبوب بلند — اسلام کی پہلی شہیدہ۔

سُمیّہ تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔

سُمیّہ کا کیا مطلب ہے

سُمیّہ «سامیہ» کی محبت بھری تصغیر ہے، کم کرنے کی نہیں — گویا یہ نام کہتا ہے: ایک پیاری، چھوٹی بلندی والی۔ جذر «س-م-و» میں بلندی اور رفعت ہے۔

حضرت سُمیّہ بنت خبّاط رضی اللہ عنہا، حضرت عمّار بن یاسرؓ کی والدہ، اسلام کی پہلی شہیدہ۔ تپتے ریگستان میں ابوجہل کے ہاتھوں ظلم سہا اور اسلام سے نہ پھریں، تو اس نے نیزہ مار کر شہید کیا۔

  • حضرت سُمیّہ بنت خبّاط رضی اللہ عنہا
    ~۵۵۰–۶۱۵ ع·مکہ
    اسلام کی پہلی شہیدہ، حضرت عمّار بن یاسرؓ کی والدہ۔

سُمیّہ کا جذر

جذر س-م-و: بلندی اور رفعت۔ تصغیر «سُمیّہ» اس محبت کی گرمی دیتی ہے جو پکارنے والے کی زبان پر نہیں مٹتی۔

سُمیّہ کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں

سین سے ابتدا، پرسکون پھیلاؤ۔ پھر میم، محبت۔ پھر دو یا، محبت کا جوڑ۔ آخر میں تائے مدوّرہ، گرمی۔

شخصیت اور تعلقات کا انداز

اس نام کی حامل اکثر ناقابلِ برداشت پر صبر کرنے والی، اور حق کے مواقع پر ثابت قدم ہوتی ہیں۔ بیچ کی دو یا انہیں حملے سے بلند افق سے جوڑے رکھتی ہیں۔

اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔