زکریّا — حضرت مریم کے کفیل — جنہوں نے دعا کی: «رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً» (آل عمران: ۳۸)۔
زکریّا تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
زکریّا کا کیا مطلب ہے
زکریّا ایک نبوی نام ہے جو عبرانی «زَخَریا» سے معرَّب ہے، اور مطلب ہے «اللہ نے یاد کیا» یا «اللہ تذکّر کیا»۔ عربی میں «ذَکَر» سے قریب کیا گیا تاکہ اللہ کے مسلسل ذکر کی دلالت ملے۔
حضرت زکریّا بن بَرَخیا علیہ السلام، بنی اسرائیل کے نبی اور حضرت مریم کے کفیل۔ آپ بڑھئی تھے، اپنے ہاتھ سے کام کرتے۔ بڑھاپے میں اللہ سے نیک اولاد کی دعا کی، تو اللہ نے یحیٰ کی بشارت دی۔ اپنی قوم کے ظالموں کے ہاتھوں شہادت پائی۔
مشہور افراد
-
حضرت زکریّا علیہ السلام
~۱ صدی ق.م·فلسطینحضرت مریم کے کفیل، حضرت یحیٰؑ کے والد۔
عربی جذر
زکریّا کا جذر
عبرانی جذر «ذکر» سے ہے۔ عربی میں جذر ذ-ک-ر سے قریب کیا گیا جو دل و زبان میں نئے ہوتے حضور پر دلالت کرتا ہے۔
حروف کا مطلب
زکریّا کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
زا زینت، کاف خدمت کا ہاتھ، را مسلسل حرکت، یا محبت کا جوڑ۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کے حامل اکثر دائم الذکر ہوتے ہیں، بے سہاروں کا سہارا بنتے ہیں، اور جس بات کے اعلان سے شرماتے ہیں اس کی خلوت میں دعا کرتے ہیں۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔