طارق — رات میں دستک دینے والا — طارق بن زیاد، فاتحِ اندلس، جنہوں نے اپنے فوجیوں سے کہا: «سمندر تمہارے پیچھے ہے اور دشمن تمہارے سامنے»۔
طارق تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
طارق کا کیا مطلب ہے
طارق «طَرَقَ» (دروازہ کھٹکھٹایا) سے اسم فاعل ہے۔ اسی سے «الطارق» رات میں آنے والے کو کہتے ہیں کیونکہ اسے دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن میں آیا: «وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ، وَمَا أَدْرَاكَ مَا الطَّارِقُ، النَّجْمُ الثَّاقِبُ» (الطارق: ۱–۳)۔
طارق بن زیاد بربری (~۶۷۰–۷۲۰ ع)، فتحِ اندلس کے قائد۔ ۷۱۱ ع میں سات ہزار بربر کے ساتھ وہ آبنائے جسے بعد میں «جبلِ طارق» کہا گیا، عبور کیا، اور پیچھے کشتیاں جلا دیں تاکہ اپنے فوجیوں کو یاد دلائیں کہ واپسی نہیں۔ مشہور خطبہ دیا، اور وادیِ لَکَّہ کی جنگ میں قُوط کے آخری بادشاہ لذریق کو شکست دی۔
مشہور افراد
-
طارق بن زیاد
~۶۷۰–۷۲۰ ع·مغرب و اندلسفاتحِ اندلس، صاحبِ جبلِ طارق۔
عربی جذر
طارق کا جذر
جذر ط-ر-ق: دستک، اور اس کا لازم رات میں آنے والا۔ نام میں حامل کو یاد دلایا گیا ہے کہ وہ نازک وقت میں آیا ہے۔
حروف کا مطلب
طارق کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
طا بنیاد، الف استقامت کی قامت، را حرکت، قاف بلندی جو اوپر سے فیصلے کے ساتھ اترتی ہے۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کے حامل اکثر قاطع ہوتے ہیں، مشکل وقت پر آتے ہیں، پیچھے کی چیز جلا دیتے ہیں اور پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔