سلیمان — نبیِّ بادشاہ — جنہوں نے دعا کی: «رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي» (ص: ۳۵)۔
سلیمان تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
سلیمان کا کیا مطلب ہے
سلیمان ایک نبوی نام ہے جو عبرانی سے معرَّب ہے، اصل «شَلومو» جذر «شَلَم» (سلام) سے، وہی جذر جس سے «اسلام» اور «سلام» نکلے۔ گویا مطلب: بہت زیادہ سلام والا۔
حضرت سلیمان بن داود علیہما السلام، نبیِّ بادشاہ۔ اپنے والد سے بادشاہت ورثے میں ملی، تو اللہ سے دعا کی کہ ایسی سلطنت دے جو ان کے بعد کسی کو نہ ملے۔ اللہ نے جن، انسان، پرندے اور ہوا مسخر کیے، اور پرندوں کی بولی سکھائی۔ آپ نے عدل سے حکومت کی اور بیت المقدس تعمیر کیا۔
مشہور افراد
-
حضرت سلیمان علیہ السلام
~۱۰ صدی ق.م·بیت المقدسنبیِّ بادشاہ، حکمت اور عظیم سلطنت کے مالک۔
عربی جذر
سلیمان کا جذر
عبرانی جذر «ש-ל-ם» عربی جذر س-ل-م سے کاملیت، امن اور استحکام کے معنی میں ملتا ہے۔ قرآن میں یہ نام بادشاہت اور حکمت دونوں کا حامل ہے۔
حروف کا مطلب
سلیمان کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
سین پھیلاؤ، لام بلند جوڑ، یا محبت کا جوڑ، میم محبت کا گھیر، الف قیام، نون پرسکون گہرائی۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کے حامل اکثر حکیم اور قادر ہوتے ہیں، جھگڑے کو ناپسند کرتے ہیں اور محبت کے ساتھ عدل کو ترجیح دیتے ہیں۔ آخری نون اشارہ ہے کہ ظاہر چاہے جتنا متلاطم ہو، وہ اپنے گہرے سکون پر قائم رہتے ہیں۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔