سالم — آفات سے محفوظ — حضرت سالم مولیٰ ابی حذیفہ، قبا کی مسجد میں مہاجرین کے امام۔
سالم تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
سالم کا کیا مطلب ہے
سالم «سَلِمَ» سے اسم فاعل ہے: عیب اور آفت سے محفوظ۔ نام خود ایک دعا ہے کہ صاحبِ نام جھوٹ سے محفوظ زندگی گزارے۔
حضرت سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ، ان چار میں سے جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «قرآن چار سے لو»۔ یمامہ کے دن شہید ہوئے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: «اگر سالم زندہ ہوتے تو خلافت کے لیے میں خوف زدہ نہ ہوتا»۔
مشہور افراد
-
حضرت سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ
~۵۹۳–۶۳۳ ع·مکہ و مدینہصحابہ کے ائمّہ قرّاء میں سے، شہیدِ یمامہ۔
عربی جذر
سالم کا جذر
جذر س-ل-م: آفات سے سلامتی۔ اسی سے «اسلام» (دل کا اللہ کے سامنے سپرد ہو جانا)، «سلام» (امان و صحت)، اور «تسلیم» (قبولیت) نکلے۔
حروف کا مطلب
سالم کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
سین پرسکون پھیلاؤ، الف سیدھی قامت، لام بلند جوڑ، میم محبت کا گھیر۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کے حامل اکثر صاف دل ہوتے ہیں، الجھے مواقف سے سلامتی سے نکل آتے ہیں، اور سجاوٹ پر سچائی کو ترجیح دیتے ہیں۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔