سکینة
مسلم لڑکیوں کا نام  ·  علم الحروف کی قراءت

سکینہ — سکینہ، اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی طمانیت۔

سکینہ تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔

سکینہ کا کیا مطلب ہے

سکینہ قرآن میں اس الٰہی طمانیت کا نام ہے جو اللہ تنگی کے وقت اہلِ ایمان کے دلوں پر نازل کرتا ہے۔ سورۂ فتح ۴ میں ارشاد ہے: «وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل کی»، اور یہ غارِ ثور میں نبی ﷺ پر نازل ہوئی تھی۔

یہ اسلام میں سب سے باوقار بچیوں کے ناموں میں سے ہے۔ اس نام والی مشہور ترین شخصیت حضرت سکینہ بنتِ حسین رضی اللہ عنہا ہیں، سیّدُ الشہداء کی نواسی اور خاندانِ نبوت کی فرد۔

  • حضرت سکینہ بنتِ حسین رضی اللہ عنہا
    ~۶۷۱–۷۳۵ ع·مدینہ
    حضرت علی کی پوتی، خاندانِ نبوت کی شریف خواتین میں سے، احادیث اور ادب کی روایت کیں۔

سکینہ کا جذر

جذر س-ک-ن سکون اور اضطراب کے دور ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ اسی سے «سکن» (گھر)، «سکینہ» (طمانیت) اور «ساکن» (مقیم) آتے ہیں۔ قرآن میں کئی مقامات پر آیا، جیسے سورۂ روم ۲۱ میں «تاکہ تم اس کی طرف سکون پاؤ»۔

سکینہ کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں

سین دل پر سکون کا پھیلاؤ، کاف وہ کفایت جو بندہ طویل اضطراب کے بعد پاتا ہے، یا بندہ اور رب کے درمیان صلہ، اور نون سکینت کا نور جو آسمان سے اترتا ہے اور طوفان کو خاموش کر دیتا ہے۔

شخصیت اور تعلقات کا انداز

اس نام کی حامل اکثر دل کی پُرسکون ہوتی ہیں، جس بات پر لوگ بے قابو ہو جائیں اس پر متاثر نہیں ہوتیں۔ گھر میں داخل ہوتی ہیں تو ان کے ساتھ سکون داخل ہوتا ہے، محفل میں بیٹھتی ہیں تو شور تھم جاتا ہے۔ لوگوں کو اپنی موجودگی سے فائدہ پہنچاتی ہیں، اپنی گفتگو سے پہلے۔

اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔