سجدہ — سجدہ، اللہ کے سامنے پیشانی زمین پر رکھنا۔
سجدہ تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
سجدہ کا کیا مطلب ہے
سجدہ عربی اور شریعت میں نماز میں پیشانی کو زمین پر رکھنے کا نام ہے، اور یہ بندے کے رب سے قریب ہونے کا قریب ترین حال ہے، جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے: «بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہو، تو دعا کثرت سے کرو» (مسلم)۔
قرآن میں ایک کریم سورت کا نام «السجدہ» ہے، جس میں بعض ائمہ کے نزدیک سجدۂ تلاوت کا حکم ہے۔ سجدہ توحید کی شعار ہے، جس کے سامنے ملک الملوک کے حضور تمام سر برابر ہو جاتے ہیں۔
عربی جذر
سجدہ کا جذر
جذر س-ج-د خضوع اور جھکنے پر دلالت کرتا ہے۔ شریعت میں «سجود» صرف اللہ کے لیے ہے، «سجدت الأشجار» یعنی پھل کے بوجھ سے درختوں کا جھکنا، اور قرآن میں ہے: «اور آسمانوں اور زمین میں جو ہے وہ اللہ کو سجدہ کرتا ہے» (سورۂ رعد ۱۵)۔
حروف کا مطلب
سجدہ کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
سین زمین پر پیشانی کا پھیلاؤ، جیم تواضع کا جمال، دال اس رب کی دلالت جس کی عبادت کی گئی، اور تا سجدہ کرنے والے کے چہرے پر سجدے کا وہ شریف اثر جو قیامت کے دن باقی رہے گا۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کی حامل اکثر تواضع کی نذر ہوتی ہیں، جب ان کا مرتبہ بلند ہو تو اپنے آپ کو نیچا کرتی ہیں، اور ضرورت پر مجلس پر سجدے کو ترجیح دیتی ہیں۔ اپنی راحت گفتگو میں نہیں، نماز میں پاتی ہیں، اور دل کی ہیبت کو زبان پر برقرار رکھتی ہیں۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔