صائمہ — صائمہ، اللہ کے لیے روزہ رکھنے والی۔
صائمہ تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
صائمہ کا کیا مطلب ہے
صائمہ «صام» سے اسم فاعل ہے، یعنی وہ خاتون جو اللہ کے لیے طلوعِ فجر سے غروبِ شمس تک کھانے، پینے اور دیگر مفطرات سے رکی رہے۔ قرآنِ کریم میں سورۂ احزاب ۳۵ میں صائمات کی مدح فرمائی گئی۔
برصغیر اور پاکستان میں یہ نام Saima کے املا کے ساتھ لڑکیوں کے لیے رکھا جاتا ہے، اس دعا کے ساتھ کہ صاحبۂ نام اہلِ عبادت و صیام میں سے ہو۔
عربی جذر
صائمہ کا جذر
جذر ص-و-م کسی چیز سے روکنے اور باز رہنے پر دلالت کرتا ہے۔ شریعت میں: نیت کے ساتھ طلوعِ فجر سے غروبِ شمس تک مفطرات سے رکنا۔ اسی سے «صوم»، «صائم» اور مؤنث «صائمہ» آتے ہیں۔
حروف کا مطلب
صائمہ کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
نام کے آغاز کا صاد روزے میں نیت کی صفائی ہے، الف فجر کے ساتھ قیام، یا بندہ اور رب کے درمیان یہ پوشیدہ ندا کہ وہ روزے سے ہے، اور آخر کی میم وہ تمام ہے جس کا ذائقہ صائم کو افطار کے وقت اور رب کے ملنے کے وقت ملتا ہے۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کی حامل اکثر نفس پر ضبط رکھنے والی ہوتی ہیں، فضول کو کم کرتی ہیں، اچھے انداز میں خاموش رہتی ہیں، اور بے سود چیزوں سے رکنے میں اپنا لذّت پاتی ہیں۔ بڑے دسترخوانوں پر چھوٹے دسترخوانوں کو، اور فضول گفتگو پر ذکر کو ترجیح دیتی ہیں۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔