صہباء — صہباء، سرخی مائل سنہری۔
صہباء تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
صہباء کا کیا مطلب ہے
صہباء عربی میں اس شراب کو کہتے ہیں جو خوب گہری سرخی والی ہو اور تھوڑی سی سیاہی مائل ہو، پھر معنی پھیل کر ہر اس رنگ پر آ گیا جو سونے کی طرف، یا سنہری سرخی کی طرف مائل ہو۔ اونٹنی کا رنگ ایسا ہو تو اسے بھی صہباء کہا جاتا ہے۔
یہ ایک قدیم کریم عربی نام ہے، جزیرۂ عرب اور شام میں لڑکیوں کے لیے رکھا جاتا ہے، اور یہ ان ناموں میں سے ہے جو نایاب مشرقی حسن پر دلالت کرتے ہیں۔
عربی جذر
صہباء کا جذر
جذر ص-ہ-ب سرخی اور سنہری بھورے کے درمیان رنگ پر دلالت کرتا ہے۔ اسی سے «اصہب» (مذکر) اور «صہباء» (مؤنث) آتے ہیں، جس سے بال، چہرہ اور رنگ بیان کیا جاتا ہے۔ زمانۂ جاہلیت کی شاعری میں اس کا ذکر کثرت سے ملتا ہے۔
حروف کا مطلب
صہباء کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
صاد ایک نایاب رنگ کی صفائی ہے، ہا ایسی مخصوص ہویت جس کی نقل نہیں ہو سکتی، با وراثت میں ملنے والے حسن کا ظرف، اور الف اپنے گھر کے عہد پر صاحبۂ نام کا قیام جسے وہ ذلیل نہیں ہونے دیتی۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کی حامل اکثر ایسے حسن کی مالک ہوتی ہیں جس کی طرف لوگ دو بار دیکھتے ہیں، عریق نسب اور قدیم کرم رکھتی ہیں۔ اپنی قدر جانتی ہیں اور اس میں کمی نہیں ہونے دیتیں، اور لوگوں کی قدر بھی جانتی ہیں اور کسی کو حقیر نہیں سمجھتیں۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔