صفوان — صفوان، چکنا پاکیزہ پتھر — صحابی کا نام۔
صفوان تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
صفوان کا کیا مطلب ہے
صفوان عربی میں چکنے، پاکیزہ پتھر کو کہتے ہیں جس میں کوئی چیز نہیں اُگتی، اور دھوپ میں صفائی سے چمکتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ ۲۶۴ میں احسان کو احسان جتانے سے ضائع کرنے والوں کی تشبیہ اسی صفوان سے دی جس پر مٹی ہو۔
اس نام کے مشہور صحابہ میں حضرت صفوان بن امیّہ اور حضرت صفوان بن المعطَّل رضی اللہ عنہما شامل ہیں۔
عربی جذر
صفوان کا جذر
جذر ص-ف-و پاکی اور سختی پر گھومتا ہے۔ صفوان فعلان کے وزن پر ہے، یعنی چکنا چٹانی پتھر، جس نے پاکی اور سختی میں اپنا آخری درجہ پایا۔ اسی سے مکّہ کا مشہور پہاڑ «صفا» ہے۔
حروف کا مطلب
صفوان کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
صاد جوہر کی سختی ہے، فا دھوپ میں صفائی کا انکشاف، واو وہ وصل جو آسمان کی روشنی کو پتھر پر لاتا ہے، الف لرزش سے پاک قیام، اور نون آخر میں چھپا نور جو پتھر کو پلٹنے پر جھلکتا ہے۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کا حامل اکثر بے سختی کی سختی اور بے سادہ لوحی کی پاکی رکھتا ہے۔ اس کا عہد جانا پہچانا ہے اور اس کی بدعہدی نہیں جانی جاتی۔ دھوپ میں صفوان کی طرح یوں کھڑا ہوتا ہے کہ اس کا عیب چھپتا نہیں اور اس کا کمال چھپایا نہیں جاتا۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔