صفیہ — صفیہ، چنی ہوئی، امّ المؤمنین بنتِ حُییّ۔
صفیہ تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
صفیہ کا کیا مطلب ہے
صفیہ صفتِ مشبہ بصیغۂ فعیلہ ہے، «صفا» سے، یعنی ہر آمیزش سے خالص دل والی، یا اپنے ہم عمر لوگوں میں سے چنی ہوئی منتخب۔ اسی سے «صفی اللہ» (اللہ کا چنا ہوا) ہے، جسے انبیاء کے انتخاب پر بولا جاتا ہے۔
اس نام والی مشہور ترین شخصیت امّ المؤمنین حضرت صفیہ بنت حُییّ بن اخطب رضی اللہ عنہا ہیں، حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے، نبی ﷺ نے غزوۂ خیبر کے بعد ان سے نکاح فرمایا۔ انہوں نے نبی ﷺ سے بہت سی احادیث روایت کیں اور آپ کی ازواج میں سے علم و فضل کی حامل تھیں۔
مشہور افراد
-
حضرت صفیہ بنت حُییّ رضی اللہ عنہا
~۶۱۰–۶۷۰ ع·خیبر پھر مدینہامّ المؤمنین، نبی ﷺ نے غزوۂ خیبر کے بعد ان سے نکاح فرمایا، حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے۔
عربی جذر
صفیہ کا جذر
جذر ص-ف-و پاکی اور انتخاب پر گھومتا ہے۔ اسی سے «صفی» (جاہلیت میں تقسیم سے پہلے غنیمت میں سے چنی ہوئی چیز)، «مصطفیٰ» (اللہ کا چنا ہوا) اور «صفیہ» (چنی ہوئی منتخب خاتون) آتے ہیں۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: «اللہ نے اولادِ ابراہیم میں سے اسماعیل کو چن لیا»۔
حروف کا مطلب
صفیہ کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
آغاز کا صاد جوہر کی پاکی ہے، فا کریم نسب کا انکشاف، یا حق کے قرب کی دلالت پر ندا، اور آخر میں تا اس خاتون کی علامت ہے جو نام کو نبوی شفقت پر ختم کرتی ہے۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کی حامل اکثر چھپا ہوا نسب رکھنے والی، بغیر فخر کے بلند قدر، اور دنیا کی صحبت پر مومنوں کی صحبت کو ترجیح دیتی ہیں۔ ان میں موروثی شرف اور وہ ادب جمع ہوتا ہے جو کتابوں سے نہیں سیکھا جاتا۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔