صفیہ — صفیہ، چنی ہوئی، خالص دل والی (سواحلی صیغہ)۔
صفیہ تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
صفیہ کا کیا مطلب ہے
Safia صفیہ کا مشرقی افریقی اور سواحلی صیغہ ہے۔ مطلب ہے صاف دل والی، یا چنی ہوئی منتخب۔ صحابہ کرام نے اپنی بیٹیوں کا نام امّ المؤمنین حضرت صفیہ بنت حُییّ سے تبرّک لے کر رکھا۔
مغرب اور مشرقی افریقہ میں یہ نام Safia کے املا کے ساتھ عام ہے، اور یہ وہی نام ہے جو اصل عربی میں صفیہ لکھا جاتا ہے۔
عربی جذر
صفیہ کا جذر
جذر ص-ف-و پاکی اور انتخاب پر دلالت کرتا ہے۔ صفیہ صفتِ مشبہ بصیغۂ فعیلہ ہے، یعنی وہ جس کا دل حق کے لیے صاف ہو گیا اور حق نے بھی اسے چن لیا۔ اسی سے «صفی» (وہ محبوب جس سے محبت خالص ہو) آتا ہے۔
حروف کا مطلب
صفیہ کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
نام کا آغاز کا صاد نیت کی پاکی ہے، فا اندرونی حسن کا انکشاف، یا دل کو محبوب پر جوڑنے والی صلہ، اور تا اس صفائی کے اثر پر ختم جو باقی رہتا ہے۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کی حامل اکثر کشادہ دل، خالص دل والی ہوتی ہیں، لوگوں کو ان کے باطنی حسن سے چنتی ہیں، نہ کہ ظاہری روپ سے۔ نفاق سے بدکتی ہیں، اور حق کا اظہار نرمی کے ساتھ کھل کر کرنا پسند کرتی ہیں۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔