صفا — صفا، مکّہ کا متبرک پہاڑ، حضرت ہاجرہ کا مقامِ سعی۔
صفا تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
صفا کا کیا مطلب ہے
صفا کا اصل لغوی معنی صاف چکنا پتھر ہے، پھر یہ کعبہ کے قریب اس مشہور پہاڑ پر غالب آ گیا جہاں حضرت ہاجرہ نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ کے درمیان دوڑ لگائی۔
اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ ۱۵۸ میں فرمایا: «بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں»۔ یہ نام صاحبۂ نام کو سعی اور اخلاص کی یاد دلاتا ہے، اور یاد دہانی ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان سات چکر حجاج اور معتمرین پر فرض ہیں۔
عربی جذر
صفا کا جذر
جذر ص-ف-و پاکی اور کدورت کے دور ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ اسی سے «صفا» (چکنا پتھر)، «صفاء» (ہر آمیزش سے پاک ہونا)، «صفی» (چنا ہوا محبوب)، اور «مصطفیٰ» (نبی ﷺ کا لقب) آتے ہیں۔
حروف کا مطلب
صفا کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
آغاز میں صاد اصلی صفائی، درمیان میں فا حق کا بے پردہ ظاہر ہونا، اور آخر میں الف اللہ کے ساتھ عہد پر قیام، جیسے حضرت ہاجرہ کا دو میلوں پر قیام جہاں سعی کے سوا چارہ نہ تھا۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کی حامل اکثر اندر سے پاک، مداہنت کو ناپسند کرنے والی، اور برہنہ سچائی کو پسند کرنے والی ہوتی ہیں۔ جب چلتی ہیں، اللہ کے لیے چلتی ہیں، اپنی ذات کے لیے نہیں۔ ان کی محض موجودگی اپنے گرد لوگوں کو حضرت ہاجرہ کے صبر کی یاد دلاتی ہے۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔