صبا — صبح کی ہوا، مشرقی پُروا جو محبوب کی خوشبو لاتی ہے۔
صبا تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
صبا کا کیا مطلب ہے
صبا عربی میں مشرقی نرم ہوا کو کہتے ہیں جو فجر کے وقت چلتی ہے اور باغوں کی خوشبو اور پھولوں کی مہک لاتی ہے۔ عربی، فارسی اور اردو شاعری میں صبا قاصدِ بشارت ہے، محبوب کے کوچے کی خوشبو عاشق تک پہنچاتی ہے۔
یہ مسلم لڑکیوں کا ایک پسندیدہ اور بابرکت نام ہے۔ قرآنِ کریم میں سورۂ نمل اور سورۂ سبا میں ملکۂ سبا (بلقیس) کا ذکر آیا ہے جو حضرت سلیمان علیہ السلام پر ایمان لائیں۔
عربی جذر
صبا کا جذر
عربی جذر ص-ب-و، جس سے صبا یعنی مشرقی نرم ہوا نکلتا ہے۔ سورۂ سبا میں مملکتِ سبا کا ذکر بھی اسی نام سے جڑتا ہے۔
حروف کا مطلب
صبا کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
نام کے آغاز میں صاد نیت کی صفائی اور صداقت کا اشارہ ہے، درمیان میں با ایسا ظرف ہے جو خوشبو کو بدلے بغیر اٹھاتا ہے، اور آخر میں الف ہر روز فجر کی ہوا کی طرح اصل کی طرف لوٹنا ہے۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کی حامل اکثر نرم خو، سچی گفتار اور قریبی لوگوں کی خوش خبری دینے میں جلدی کرنے والی ہوتی ہیں۔ ان کے گرد ایک ایسی اُنس ہوتی ہے جو پُروا کی طرح ہے، اور ان کے جانے کے بعد بھی محفل میں ان کا اثر باقی رہتا ہے۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔