رقیہ — تعویذِ حفاظت کی تصغیر — نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی، ذوالنورینؓ کی زوجہ۔
رقیہ تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
رقیہ کا کیا مطلب ہے
رقیہ «رُقیہ» (وہ کلمات جن سے پناہ مانگی جائے) کی تصغیر ہے، جذر «رقی» (چڑھنا، بلند ہونا) سے۔ نام میں تصغیر محبت کی ہے، کم نہیں: گویا ایک پیارا، چھوٹا تعویذ۔
حضرت رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ، حضرت خدیجہؓ سے۔ حضرت عثمان بن عفانؓ سے نکاح ہوا اور آپ ان کے ساتھ حبشہ اور پھر مدینہ ہجرت فرمائیں۔ بدر کی فتح کی خوشخبری پہنچنے کے دن آپ کا انتقال ہوا۔
مشہور افراد
-
حضرت رقیہ بنت النبی ﷺ
~۶۰۱–۶۲۴ ع·مکہ و مدینہنبی کریم ﷺ کی صاحبزادی، ذوالنورینؓ کی زوجہ۔
عربی جذر
رقیہ کا جذر
جذر ر-ق-ی: چڑھنا اور بلند ہونا۔ اسی سے «مرقاۃ» (سیڑھی) اور «رُقیہ» (اچھے کلمات سے انسان کی حفاظت) نکلے۔
حروف کا مطلب
رقیہ کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
را سے ابتدا — مسلسل حرکت۔ پھر قاف، بلندی اور وسعت۔ پھر دو یا، محبت کا جوڑ۔ آخر میں تائے مدوّرہ، گرمی۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کی حامل اکثر بلند نظر اور اپنے گرد والوں کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں۔ پسند کرتی ہیں کہ لوگ بلندی پر دکھائی دیں، چھوٹائی میں نہیں۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔