عمر — لمبی عمر، فاروق — امیر المؤمنین، حق و باطل کو الگ کرنے والے۔
عمر تین طرح پڑھیں — اس نام کا مطلب، اس کے حروف کا اشارہ، اور اس کے حامل سے کیا تقاضا۔
لغوی معنی
عمر کا کیا مطلب ہے
لغت میں عمر: لمبی عمر والا، باقی رہنے والا۔ جذر ع-م-ر (عَمَرَ — لمبا قیام کرنا) سے۔ "عمران" زمین کو آباد کرنا۔ آپ اسلام لانے کے بعد "فاروق" کہلائے کیونکہ اللہ نے آپ کے ذریعے حق اور باطل میں تمیز کر دی۔
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ، دوسرے خلیفۂ راشد، امیر المؤمنین، جنہوں نے اپنی خلافت میں بیت المقدس، فارس اور شام فتح کیے۔ حق میں سخت، رعایا پر نرم۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتے»۔
مشہور افراد
-
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
۵۸۴–۶۴۴ ع·مکہ و مدینہفاروق، امیر المؤمنین، بیت المقدس کے فاتح۔
-
حضرت عمر بن عبد العزیز
۶۸۲–۷۲۰ ع·دمشقپانچویں خلیفۂ راشد۔
-
عمر خیام
۱۰۴۸–۱۱۳۱ ع·نیشاپورشاعر، فلکیات دان، ریاضی دان۔
عربی جذر
عمر کا جذر
جذر ع-م-ر (عَمَرَ — لمبی زندگی گزارنا) "عُمر"، "عمران" اور "معمور" کا جذر ہے۔ خود اس میں ایک طویل المدت دعوت ہے کہ انسان بھلائی پر دیر تک قائم رہے۔
حروف کا مطلب
عمر کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
نام عین سے شروع ہوتا ہے — بصیرت کا حرف۔ پھر میم — رحم اور ماں محبت کا حرف — تیز عین کو رحمت سے نرم کرتی ہے۔ پھر را — حرکت کا حرف۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کے حامل اکثر حق میں سخت اور رحمت میں نرم ہوتے ہیں۔ اکثر اپنے گرد لوگوں کے سربراہ ہوتے ہیں اور ایسے فیصلوں کے لیے امانت دار سمجھے جاتے ہیں۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔