خالد — باقی رہنے والا، ابدی — سیف اللہ المسلول۔
خالد تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
خالد کا کیا مطلب ہے
خالد «خَلَدَ» سے اسم فاعل ہے: ہمیشہ رہنے والا۔ اسی سے «خُلد» (دائمی بقا) اور «جنّاتِ خُلد» نکلے۔
حضرت خالد بن الولید مخزومی رضی اللہ عنہ، جنہیں نبی کریم ﷺ نے «سیف اللہ المسلول» کا لقب دیا۔ عراق و شام کی فتوحات کے قائد، کسی جنگ میں شکست نہ کھائی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «عورتیں خالد جیسا بیٹا جننے سے قاصر ہیں»۔
مشہور افراد
-
حضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہ
~۵۸۵–۶۴۲ ع·مکہ و شامسیف اللہ المسلول، شام و عراق کے فاتح۔
عربی جذر
خالد کا جذر
جذر خ-ل-د بقا اور ثبات پر دلالت کرتا ہے۔ اسی سے «خلود» نکلا — وہ بقا جو نہ ٹوٹے، اور «خالد» — وہ جو ختم نہ ہو۔
حروف کا مطلب
خالد کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
خا سے ابتدا — مستور قوت جو نکلنے سے پہلے جمع ہوتی ہے۔ پھر الف، نہ جھکنے والی قامت۔ پھر لام، بلند رابطہ۔ آخر میں دال، فیصلے کا دروازہ۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کے حامل اکثر قاطع، اپنی بات کے پکے، اور اپنے موقف پر جمے ہوئے ہوتے ہیں۔ آخری دال اشارہ ہے کہ وہ سوچ بچار کے بعد بات کو فیصلہ بنا کر بند کرتے ہیں۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔