اسحاق — لمبے انتظار کے بعد بشارت — حضرت ابراہیمؑ اور حضرت سارہؑ کے بیٹے، حضرت یعقوبؑ کے والد، بنی اسرائیل کے جدِّ امجد۔
اسحاق تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
اسحاق کا کیا مطلب ہے
اسحاق ایک نبوی نام ہے جو غیر عربی الاصل ہے، عبرانی سے معرَّب۔ اس کا مطلب «ہنسنا» یا «خوشی کی مسکراہٹ» ہے — کیونکہ حضرت سارہؑ بڑھاپے میں جب فرشتوں نے بیٹے کی بشارت دی تو خوشی سے ہنس پڑیں۔
حضرت اسحاق بن ابراہیم علیہما السلام، حضرت یعقوبؑ (اسرائیل) کے والد، اور بنی اسرائیل کے جدِّ امجد۔ اللہ نے فرمایا: «وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ» (العنکبوت: ۲۷)۔
مشہور افراد
-
حضرت اسحاق علیہ السلام
~۲۰ صدی ق.م·شامحضرت ابراہیمؑ اور حضرت سارہؑ کے بیٹے، بنی اسرائیل کے جدِّ امجد۔
عربی جذر
اسحاق کا جذر
عبرانی جذر «צחק» = ہنسنا۔ قرآن میں اسحاقؑ کا نام بڑھاپے میں اولاد کی بشارت سے جُڑا ہوا ہے، گویا یہ قبول دعا اور تنگی کے بعد خوشی دونوں کا معنی سمیٹے ہوئے ہے۔
حروف کا مطلب
اسحاق کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
ہمزہ کھول، سین خوشخبری کا پھیلاؤ، حا زندہ سانس، الف قیام، آخر میں قاف بلندی جو اوپر سے اترتی ہے۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کے حامل اکثر نرم طبع ہوتے ہیں، اور تنگی کے بعد گرد والوں میں خوشی لاتے ہیں۔ آخری قاف اشارہ ہے کہ بشارت اوپر سے آتی ہے۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔