التتمش — ملک کو تھامنے والا — شمس الدین التتمش، تیسرے غلام سلطان اور دہلی سلطنت کے حقیقی بانی۔
التتمش تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
التتمش کا کیا مطلب ہے
التتمش ایک ترکی مرکّب نام ہے: «ایل» کا مطلب قوم یا ملک، اور «تُتمش» «تُتماق» (پکڑا) سے اسم فاعل۔ مطلب: ملک کو تھامنے والا، یا جس کے ہاتھ پر امّت جمع ہو۔
شمس الدین التتمش (~۱۱۷۶–۱۲۳۶ ع)، دہلی میں تیسرے غلام (مملوک) سلطان۔ سلطان قطب الدین ایبک کے غلام، پھر داماد اور جانشین۔ آپ نے دہلی سلطنت کو مضبوط کیا، پہلی ہندوستانی چاندی کا سکّہ (ٹَنکا) چلایا، اور جب جلال الدین خوارزم شاہ کو پناہ دینے سے انکار کیا تو ہندوستان کو چنگیز خان کی پیش قدمی سے بچایا۔
مشہور افراد
-
شمس الدین التتمش
~۱۱۷۶–۱۲۳۶ ع·دہلیتیسرے غلام سلطان، دہلی سلطنت کے حقیقی بانی۔
عربی جذر
التتمش کا جذر
جذر ترکی مرکّب ہے۔ عربی میں جذر نہیں آتا، اس لیے غیر عربی علم سمجھا جاتا ہے۔
حروف کا مطلب
التتمش کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
ہمزہ کھول، یا جوڑ، لام جوڑ، دو تا مضاعف بنیاد، میم محبت، شین سلطنت کا پھیلاؤ۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کے حامل اکثر پُرسکون قبضے والے ہوتے ہیں، بغیر شور کے تھامتے ہیں، بکھرے ہوئے کو جمع کرتے ہیں اور جمع ہوئے کو نہیں بکھیرتے۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔