ابراہیم — انبیاء کے باپ، خلیل اللہ — تمام اُمتوں کے والد، بیت اللہ کے بنانے والے۔
ابراہیم تین طرح پڑھیں — اس نام کا مطلب، اس کے حروف کا اشارہ، اور اس کے حامل سے کیا تقاضا۔
لغوی معنی
ابراہیم کا کیا مطلب ہے
یہ قدیم سامی نام ہے، اصل میں عبرانی "اَبْرَہَم" سے، جس کا مطلب ہے: "بہت سی قوموں کا باپ"۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام بعد کے تمام انبیاء کے والد ہیں۔ قرآن کریم میں ذکر پچیس سورتوں میں آیا ہے۔
حضرت ابراہیم بن آزر، خلیل الرحمن، انبیاء کے باپ، حضرت اسماعیل و اسحاق کے والد۔ آپ نے حضرت اسماعیل کے ساتھ کعبہ کی تعمیر کی۔ ارشاد ہے: «بے شک ابراہیم ایک پوری امت تھے» (النحل: ۱۲۰)۔
مشہور افراد
-
حضرت ابراہیم علیہ السلام
~۱۹ویں صدی قبل از مسیح·عراق، شام، حجازخلیل اللہ، انبیاء کے باپ، کعبہ کے بنانے والے۔
-
ابراہیم بن ادہم
~۷۱۸–۷۷۷ ع·بلخ و دمشقبادشاہ جنہوں نے زہد کے لیے سلطنت چھوڑی۔
عربی جذر
ابراہیم کا جذر
یہ نام قدیم سامی ہے۔ روایتی عبرانی تحلیل اسے دو حصوں میں توڑتی ہے: "اب" (باپ) اور "راہم" (کثیر جمہور)، تو مجموعہ بنتا ہے: "بہت لوگوں کا باپ"۔
حروف کا مطلب
ابراہیم کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
نام الف سے شروع ہوتا ہے — کھڑے ہونے کا حرف۔ پھر با — تعمیر کا حرف۔ پھر را — حرکت۔ پھر دوسری الف، ہا — روح کا حرف۔ پھر یا اور میم پدرانہ گھیراؤ کرتی ہے۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کے حامل اکثر اپنی عمر سے پہلے سنجیدہ، گہرے سکون والے ہوتے ہیں۔ اکثر اپنے گرد لوگوں کا مرجع بن جاتے ہیں — مشکل فیصلوں پر بھروسہ کیا جاتا ہے۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔