ہارون — حضرت موسیٰؑ کے بھائی اور وزیر — موسیٰؑ نے کہا: «اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي» (طٰہٰ: ۳۱–۳۲)۔
ہارون تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
ہارون کا کیا مطلب ہے
ہارون ایک نبوی نام ہے جو عبرانی سے معرَّب ہے۔ اہلِ لغت نے دو قول کہے: «بلند پہاڑ» یا «روشن»۔ قرآن میں نام نصرت اور فصاحت دونوں کا حامل ہے۔
حضرت ہارون بن عمران علیہ السلام، حضرت موسیٰؑ کے بڑے بھائی، جنہیں اللہ نے بطورِ وزیر تائید دی کیونکہ ان کی زبان رواں تھی۔ موسیٰؑ نے کہا: «وَأَخِي هَارُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا فَأَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْءًا» (القصص: ۳۴)۔ موسیٰؑ نے مناجات کے لیے جاتے وقت قوم کو ہارونؑ کے سپرد کیا۔
مشہور افراد
-
حضرت ہارون علیہ السلام
~۱۳ صدی ق.م·مصر و سیناحضرت موسیٰؑ کے بھائی اور وزیر، فصیح نبی۔
عربی جذر
ہارون کا جذر
عبرانی جذر «پہاڑ» سے ہے۔ عربی میں اس کا کوئی ثلاثی جذر نہیں، اس لیے یہ غیر عربی علم سمجھا جاتا ہے۔
حروف کا مطلب
ہارون کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
ہا سے ابتدا، سانس۔ پھر الف، قامت۔ پھر را، کلام کی حرکت۔ پھر واو، جوڑ کی کشش۔ آخر میں نون، پرسکون گہرائی۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کے حامل اکثر فصیح اور سلام پسند ہوتے ہیں، اپنے کلام سے لوگوں کو سمیٹتے ہیں، اپنوں کی نصرت کرتے ہیں اور انہیں رسوا نہیں کرتے۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔