حمزہ — اللہ اور رسول ﷺ کے شیر — نبی کریم ﷺ کے چچا اور سیّدُ الشہداء۔
حمزہ تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
حمزہ کا کیا مطلب ہے
حمزہ «حَمَز» سے ہے — شدت، صلابت، اور تیز ذائقہ۔ عربی میں «حامض» اسی سے ہے۔ شیر کو بھی اس کی شدت کی وجہ سے «حمزہ» کہا جاتا ہے۔
حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ، نبی کریم ﷺ کے چچا اور رضاعی بھائی۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں «اَسَدُ اللہ و اَسَدُ رسولہ» کا لقب دیا۔ غزوۂ اُحد میں شہادت پائی اور «سیّدُ الشہداء» کہلائے۔
مشہور افراد
-
حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ
~۵۶۸–۶۲۵ ع·مکہ و مدینہاللہ کے شیر، سیّدُ الشہداء، شہیدِ اُحد۔
عربی جذر
حمزہ کا جذر
جذر ح-م-ز شدت اور ذائقے کی تیزی پر دلالت کرتا ہے۔ اسی سے «حُموضت»، «حمزہ» (شیر)، اور «حمَز فؤادہ» (دل کا غضب میں اُٹھ پڑنا) جیسے الفاظ نکلے۔
حروف کا مطلب
حمزہ کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
حا سے ابتدا، سینے کی زندگی کا حرف۔ پھر میم، محبت اور سینے سے لگانے کا حرف۔ پھر زا، زینت اور وضاحت کا حرف۔ آخر میں تائے مدوّرہ، گرمی کا اختتام۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کے حامل اکثر شدید جذبے، حق کے لیے سرگرم، اور خود دار ہوتے ہیں۔ بیچ میں زا اشارہ ہے کہ وہ پاکیزہ اور خوبصورت دکھائی دینا پسند کرتے ہیں۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔