فیروز — فیروز — مُظَفَّر، منصور، اور معروف نیلا جوہر۔
فیروز تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
فیروز کا کیا مطلب ہے
فیروز اپنے مذکر صیغے میں ہند، ایران اور وسطی ایشیا میں ایک کلاسیکی نام ہے، جس کا مطلب مُظَفَّر اور منصور ہے۔ اس کے مشہور حامل سلطان فیروز شاہ تغلق (1309–1388ء) ہند کے سلطان، اور سلطان فیروز شاہ خلجی، ہند میں خلجی سلسلے کے بانی ہیں۔ نام فارسی «پیروز» سے ہے جو با کو فا میں بدل کر معرّب ہوا، اور نصرت کی دلالت کو جوہر کی خوبصورتی کے ساتھ رکھتا ہے۔
عربی جذر
فیروز کا جذر
اصل فارسی کلمہ «پیروز» ہے جس کا مطلب مُظَفَّر ہے، یہ نسوانی فیروز نام کا بھی وہی اصل ہے، لیکن مذکر صیغے نے جوہر کی دلالت سے زیادہ نصرت کی دلالت کو محفوظ رکھا۔
حروف کا مطلب
فیروز کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
فیروز: فا فتح، یا یقین، را رفعت، واو نصرت سے وصل، زا خاتم ظفر۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کا حامل اکثر مسابقت اور نصرت کی طرف مائل ہوتا ہے، انکسار سے انکاری ہوتا اور اپنے نام کو دافع بناتا ہے۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔