فجر — فجر — صبح کا نور پھٹنا — قسمِ قرآنی، سورۃ الفجر۔
فجر تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
فجر کا کیا مطلب ہے
فجر مؤنث صورت میں پاکستان اور موجودہ عرب دنیا میں خواتین کے لیے استعمال، اور یہ ہر صبح کے نئے نور کی نشانی۔ سورۂ فجر (89) قرآن میں مکی سورت، جس میں اللہ نے فجر کی قسم کھائی۔ یہ نام قرآن اور صبح دونوں کی چمک رکھتا ہے۔
قرآن میں
فجر قرآن مجید میں
﴿وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ﴾ (الفجر: 1–2)۔ نیز ﴿إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا﴾ (الاسراء: 78)۔
عربی جذر
فجر کا جذر
یہ وہی فجر کا جذر ہے، شق ہونا اور اچانک نکلنا۔ فجر رات اور دن کے درمیان جادو بھرے وقت کا نام۔ اللہ نے قرآن میں سورۂ فجر، تکویر، اور مدثر میں اس وقت کا ذکر کیا۔
حروف کا مطلب
فجر کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
فا فیض، جیم نور کا جمال، را رحمت — تین حروف میں سورہ کی قدوسیت۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
فجر اکثر آخری شب کی خاموشی کا مزاج لاتی ہے، صبح کی تلاوت پسند، جلدی جاگنے والی، اور گھر میں سکینہ پھیلانے والی۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔