فجر — فجر — صبح کا نور پھٹنا، سحری اور طلوع کے درمیان کا وقت۔
فجر تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
فجر کا کیا مطلب ہے
فجر عربی اسم ہے صبح کے پہلے نور کے لیے، طلوعِ آفتاب سے نصف-ایک گھنٹہ پہلے — یہی نمازِ فجر کا وقت۔ پاکستان اور ہندوستان میں مردانہ نام، نور اور آغاز کا حامل۔ فقہا کے نزدیک فجر دو ہیں: کاذب (جو طولاً نکلے) اور صادق (جو عرضاً پھیلے)، حکم صادق سے متعلق۔
قرآن میں
فجر قرآن مجید میں
﴿وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ﴾ (الفجر: 1–4)۔
عربی جذر
فجر کا جذر
«فجر» جذر شق ہونا اور نکلنا۔ انفَجَرَ الماء، فُجور (حق سے نکلنا)۔ فجر کا نام بھی اسی لیے ہے کہ اس کا نور رات کی تاریکی سے پھٹ نکلتا ہے۔ قرآن میں سورۂ فجر: ﴿وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ﴾ (الفجر: 1–2)۔
حروف کا مطلب
فجر کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
فا فیض، جیم نور کا جمال، را صبح کی رحمت — تین حروف میں ہر دن کی ابتدا۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
فجر اکثر صبح اٹھنے والا، نماز کا شوقین، صبح میں اپنی برکت پاتا ہے۔ نئی ابتداؤں کا حامل، اور ہمیشہ نور کا وعدہ ساتھ رکھتا ہے۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔