فیروز — فیروز — نیلگوں قیمتی پتھر، افسانوی لبنانی گلوکارہ کا نام۔
فیروز تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
فیروز کا کیا مطلب ہے
فیروز نیلے-سبز رنگ کا قیمتی پتھر، جسے انسان نے بہت قدیم زمانے سے جانا۔ تاریخی طور پر ایران (نِیشاپور) اس کے مرکزی ذرائع میں سے۔ عرب نے یہ نام فارسی سے لیا اور پھر عربی کیا۔ جدید دور میں یہ نام افسانوی لبنانی گلوکارہ فیروز (نُہاد حَدَّاد، 1934ء–) سے جڑ گیا۔
عربی جذر
فیروز کا جذر
قدیم فارسی «پیروز» معنی فتح یاب، فائز۔ بعض فارس بادشاہوں کا لقب، جیسے پیروز ساسانی (459–484ء)۔ پھر قیمتی پتھر کا نام بنا — چونکہ اس کا رنگ «ظَفَر» یعنی نظر بد دور کرنے والا سمجھا گیا۔ عربی میں فَیْرُوز۔
حروف کا مطلب
فیروز کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
فا فتح، یا یُمن، را رحمت، واؤ وفا، زے زینت — پانچ حروف میں قیمتی پتھر اور اس کا نیلا رنگ۔
حاملینِ نام
فیروز نام کے حاملین تاریخ میں
فیروز (نُہاد حَدَّاد، 1934ء–)، عربی گائیکی کی افسانوی شخصیت، «لِبَیروت»، «زَہرۃ المدائن»، «یا قُدس» کی گائیکہ۔ قدیم اسلامی تاریخ میں فیروز الدَّیلَمی، جس نے جھوٹے نبی اسود عنسی کو قتل کیا۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
فیروز اکثر شیریں آواز، فنکارانہ ذوق، سادہ جمال پسند، اور گھر میں کسی روشن پتھر کی طرح اپنوں کو سکون دینے والی۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔