فضل — فضل — خیر میں زیادتی، کرم سے دی گئی نعمت۔
فضل تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
فضل کا کیا مطلب ہے
فضل عربی جذر «ف-ض-ل» سے، معنی خیر میں زیادتی اور کرم سے عطا۔ نوزائیدہ پر یہ نام لگانا، اس امید پر کہ افادہ اور سخاوت کرے۔ مشہور حاملوں میں فضل بن عباسؓ (نبی کریم ﷺ کے چچا زاد، اَجنادین میں شہید) اور وزیرِ عباسیہ فضل بن یحییٰ برمکی۔
عربی جذر
فضل کا جذر
«فضل» اُس خیر کا اشارہ جو حاجت سے زیادہ ہو۔ فضل اللہ کی نسبت سے: ﴿وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا﴾ (النساء: 113)۔ احسان بھی فضل میں شامل، جس کا بدلہ واجب نہیں۔
حروف کا مطلب
فضل کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
فا فضل، ضاد ضیاء، لام لطف — تین حروف میں کرم کے سارے معانی۔
حاملینِ نام
فضل نام کے حاملین تاریخ میں
فضل بن عباس بن عبد المطلبؓ، نبی کریم ﷺ کے چچا زاد، حجۃ الوداع پر پیچھے سوار۔ فضل بن یحییٰ برمکی (765–808ء)، خلیفہ ہارون الرشید کے وزیر۔ فضل بن سہل «ذو الرِّیاستین» (770–818ء)، مامون کے وزیر۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
فضل اکثر سخی، اہل کی خدمت میں قابل اعتماد، رشتہ داروں سے احسان کرنے والا، اور صلے کا منتظر نہیں۔ ٹیم اس میں سخاوت اور پردہ پاتی ہے۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔