ازل — ازل — جس کی ابتدا نہ ہو، ازلیّت۔
ازل تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
ازل کا کیا مطلب ہے
ازل اسلامی فلسفہ-و-کلام میں وہ قدامت جس کی ابتدا نہ ہو — اللہ تعالیٰ کی صفت۔ ابد اس کی ضد یعنی جس کا اختتام نہ ہو۔ اللہ کو «ازلی-ابدی» کہا جاتا ہے۔ ترکی میں Ezel جدید نسوانی نام؛ 2009ء کے مشہور ترک ڈرامہ «Ezel» نے اسے شہرت دی۔
عربی جذر
ازل کا جذر
«ازل» اہل علم کے کلام میں مطلق قدامت — جو ہمیشہ سے رہا۔ بیہقی نے «الاسماء و الصفات» میں کہا: «ازل وہ جس کی کوئی ابتدا نہ ہو»۔ قرآن میں ﴿هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ﴾ (الحدید: 3) اسی معنی پر۔
حروف کا مطلب
ازل کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
ہمزہ کتابت میں ابتدا، مگر معنی میں ہر ابتدا سے پہلے کا اشارہ۔ زے نام کی زینت، لام معنی کا گرہ — یہ نام عظمت کی صدا۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
ازل/Ezel اکثر گہری سوچ، فلسفہ-و-شاعری کی شوقین، کم عمری میں وجودی سوال پوچھنے والی، اور بڑے معنی کی طرف میلان۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔