عماد — عَماد — ستون، سہارا، گھر کا کھمبا۔
عماد تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
عماد کا کیا مطلب ہے
عَماد عربی لفظ ہے، جذر «ع-م-د» سے، معنی ستون، سہارا، اور گھر کا کھمبا۔ عرب کہاوت میں عَماد وہ ہے جس کے بغیر گھر کھڑا نہیں رہ سکتا۔ اسلامی القاب میں «عِماد الدِّین» (دین کا ستون) اور «عِماد المُلک» مشہور ہیں۔ Emad املا مصر اور شام میں رائج ہے۔
عربی جذر
عماد کا جذر
جذر «ع-م-د» سہارا اور قیام کے معنی پر گھومتا ہے۔ عَمَّد البِناء یعنی عمارت کھڑی کی۔ عَمود کی جمع عَمَد ہے۔ صبح کا عَمود، یعنی اُس کی کھڑی لکیر۔ خیمے کا عَماد وہ ہے جس پر وہ ٹِکا ہو۔
حروف کا مطلب
عماد کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
عین چہرے کی آنکھ کی طرح نمایاں شخصیت، میم محبت کا سمیٹنا، الف قدر کی بلندی، دال ثابت قدمی — اس نام کا حامل اپنوں کی آنکھ، سہارا، اور دائمی پشتیبان ہوتا ہے۔
حاملینِ نام
عماد نام کے حاملین تاریخ میں
عماد الدین زنکی (1085–1146ء)، اتابکِ موصل، الرُّها کا فاتح، نور الدین کے والد۔ عماد الدین اصفہانی (1125–1201ء)، صلاح الدین کے دربار کے ادیب-و-مؤرخ۔ عثمانی فوج کے سرداروں میں عماد الدین ادھم۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
عماد اکثر کم عمری میں بوجھ اٹھانے والا، گھر یا ٹیم کا سہارا، اور مشکل وقت میں رجوع کی جگہ بنتا ہے۔ ثبات اور تولا ہوا کلام اس کی پہچان، اور سنگین وقت میں ساتھ چھوڑنا اسے ناپسند۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔