ایوب — نبیِّ صبر — جنہیں اللہ نے فرمایا: «إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا، نِعْمَ الْعَبْدُ، إِنَّهُ أَوَّابٌ» (ص: ۴۴)۔
ایوب تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
ایوب کا کیا مطلب ہے
ایوب ایک نبوی نام ہے جو غیر عربی الاصل ہے، عبرانی سے معرَّب۔ بعض اہلِ لغت نے اسے جذر «أ-و-ب» (اللہ کی طرف بار بار لوٹنا) سے قریب کیا، اسی لیے اللہ نے فرمایا: «إنّه أوّاب»۔
حضرت ایوب علیہ السلام، جنہیں اللہ نے بلا پر صبر میں مثال بنایا۔ آپ کے جسم، اہل اور مال میں آزمائش آئی، آپ نے شکوہ نہ کیا، یہاں تک کہ جب تکلیف کا اثر آپ کی ذات کو پہنچا تو اپنے رب سے دعا کی: «أنّی مَسَّنِی الضُّرُّ وأنتَ أرحمُ الراحمین»۔ اللہ نے قبول فرما کر کھویا ہوا واپس دیا اور اس سے زیادہ بھی۔
مشہور افراد
-
حضرت ایوب علیہ السلام
~۱۸ صدی ق.م·شامنبیِّ صبر، جنہیں مثال بنایا گیا۔
عربی جذر
ایوب کا جذر
عبرانی جذر «آزمایا گیا» سے ہے۔ عربی میں «الأَوْب» (اللہ کی طرف مسلسل رجوع) سے ملایا گیا، وہی صفت جس کی اللہ نے قرآن میں ان کی تعریف کی۔
حروف کا مطلب
ایوب کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
ہمزہ کھول، دو یا مسلسل جوڑ کی طرح حنین، واو جاذب جوڑ، با صبر کا ظرف۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کے حامل اکثر صبور اور توکّل کی گہرائی والے ہوتے ہیں، اپنی بلا کو چھپا کر خاموشی سے رب سے دعا کرتے ہیں۔ آخری با اشارہ ہے کہ وہ شکوے کو دل میں رکھتے ہیں، لوگوں میں نہیں۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔