اسماء — بلند، رفیع — حضرت اسماء بنت ابی بکر، ذات النطاقین۔
اسماء تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
اسماء کا کیا مطلب ہے
اسماء «اسم» کی جمع ہے، اور «اسم» «سَمَا» (بلند ہوا) سے ہے۔ گویا «اسماء» کا مطلب: مضاعف بلندی، یا وہ جو اپنی ذات میں خوبیوں کی علامات سمیٹے۔
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما، «ذات النطاقین» — کیونکہ ہجرت کے دن نبی کریم ﷺ کے توشے کو باندھنے کے لیے اپنا کمر بند پھاڑ کر دو ٹکڑے کیے۔ آپ سو سال جیئیں، اسلام کے ابتدائی ایام کی گواہ، اور حضرت عبداللہ بن زبیر کی والدہ۔
مشہور افراد
-
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا
~۵۹۵–۶۹۲ ع·مکہ و مدینہذات النطاقین، حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی والدہ۔
عربی جذر
اسماء کا جذر
جذر س-م-و بلندی پر دلالت کرتا ہے۔ اسی سے «سماء» (بلندی)، «اسم» (بلند نشان)، اور «سمو» (نُبل) نکلے۔
حروف کا مطلب
اسماء کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
ہمزہ سے ابتدا، گویا دروازہ کھلا۔ پھر سین، پھیلاؤ۔ پھر میم، محبت کا گھیر۔ پھر الف، قامت۔ آخر میں ہمزہ، بلندی پر ٹھہراؤ۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کی حامل اکثر بلند ہمت ہوتی ہیں، اپنی قدر سے گری ہوئی بات کو قبول نہیں کرتیں۔ آخری ہمزہ اشارہ ہے کہ وہ لوگوں میں اپنا مقام جانتی ہیں۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔