ابوبکر — صدیقِ اکبر، خلیفۂ راشد اوّل، غارِ ثور میں نبی کریم ﷺ کے رفیق۔
ابوبکر تین پرتوں میں پڑھیں — کنیت کا مطلب، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
ابوبکر کا کیا مطلب ہے
ابوبکر کنیت ہے۔ عربی لغت میں «بَکْر» سے مراد جوان اونٹ ہے جو ابھی ثَنِی نہ ہوا ہو۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں قبلِ اسلام «ابوبکر» کہہ کر پکارا اور بعد میں اسی کنیت کو برقرار رکھا، اور آپ کو «صدیق» کا لقب اس لیے ملا کہ آپ نے بغیر تامل کیے واقعۂ معراج کی تصدیق کی۔
آپ کا اصل نام عبداللہ بن ابی قحافہ ہے۔ پہلے خلیفۂ راشد، ہجرت میں نبی کریم ﷺ کے ساتھی۔ اللہ نے ان کے بارے میں فرمایا: «إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا» (التوبہ: ۴۰)۔ تقریباً دو سال تین مہینے خلافت سنبھالی، اسی عرصے میں قرآن کو جمع کروایا، فتنۂ ارتداد سے نمٹے، اور فتوحات کے دروازے کھولے۔
مشہور افراد
-
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
~۵۷۳–۶۳۴ ع·مکہ و مدینہپہلے خلیفۂ راشد، صدیقِ اکبر۔
عربی جذر
ابوبکر کا جذر
جذر ب-ک-ر ابتدا اور اوّلیت پر دلالت کرتا ہے۔ اسی سے «بِکر» (پہلا)، اور «بَکْر» (دن کے ابتدائی حصے میں نکلنا) آتا ہے۔ کنیت «ابوبکر» اصل میں «بَکْر» (جوان اونٹ) سے ہے اور بعد میں نبی کریم ﷺ کے ساتھی کے لیے علم بن گئی۔
حروف کا مطلب
ابوبکر کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
پہلی با «ابوّت» کا ظرف۔ واو وصل و مد۔ دوسری با «بَکْر» کا ظرف۔ کاف ہاتھ جو تھامتا ہے، اور را مسلسل حرکت۔ پورا نام کہتا ہے: جو سمیٹے، پھر تھامے، پھر وقت میں آگے بڑھے۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کے حامل اکثر حق کو فوراً تسلیم کرنے کے عادی، اور بڑے کاموں میں خاموش جرات کے مالک ہوتے ہیں۔ آخری را اس طرف اشارہ ہے کہ وہ بات کو بات سے نہیں، عمل سے ختم کرتے ہیں۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔