عبد الرحمٰن — اللہ کے اسم «الرحمٰن» کا بندہ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «اللہ کے نزدیک سب سے محبوب نام عبد اللہ اور عبد الرحمٰن ہیں»۔
عبد الرحمٰن تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کا اشارہ، اور حامل پر تقاضا۔
لغوی معنی
عبد الرحمٰن کا کیا مطلب ہے
عبد الرحمٰن «عبد» اور اللہ کے اسم «الرحمٰن» (جس کی رحمت نے ہر چیز کو گھیر لیا) سے مرکّب ہے۔ نام خود ایک اقرار ہے کہ حامل صرف اللہ کی رحمت کی کشادگی میں زندہ ہے۔
بہت سے صحابہ کرام نے یہ نام اٹھایا، سب سے نمایاں حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ، عشرہ مبشّرہ میں سے، وہ تاجر جنہوں نے کہا: «میں پتھر دیکھتا ہوں اور خوف کھاتا ہوں کہ کہیں مال اسے ڈھک نہ دے»۔
مشہور افراد
-
حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ
~۵۸۱–۶۵۴ ع·مکہ و مدینہعشرہ مبشّرہ میں سے۔
عربی جذر
عبد الرحمٰن کا جذر
پہلا جذر ع-ب-د: محبت سے عبودیت۔ دوسرا جذر ر-ح-م: بہنے والی رحمت۔ پورے نام کا مطلب: اُس کا بندہ جس کی رحمت ہر شے سے کشادہ ہے۔
حروف کا مطلب
عبد الرحمٰن کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
عین حقیقت پر نگاہ کھولتی ہے، با خدمت کا ظرف بناتی ہے، دال واپسی کا دروازہ کھولتی ہے، را آگے بڑھتی ہے، حا سانس لیتی ہے، میم سمیٹتی ہے، نون پرسکون گہرائی پر ٹھہرتی ہے۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کے حامل اکثر رحیم القلب ہوتے ہیں، یہ جان کر شروع کرتے ہیں کہ رحم کرنے سے پہلے وہ خود رحم کیے گئے ہیں۔ بیچ کی میم یاد دلاتی ہے کہ رحمت فیصلے سے پہلے گلے سے لگانا ہے۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔