عَبَّاس — معرکے میں تیوری چڑھانے والا شیر — نبی کریم ﷺ کے چچا۔
عباس تین پرتوں میں پڑھیں — معنی، حروف کی روشنی، اور حامل پر اس کا تقاضا۔
لغوی معنی
عَبَّاس کا کیا مطلب ہے
عَبَّاس صیغۂ مبالغہ ہے «عَبَسَ» (تیوری چڑھائی) سے۔ پرانے عربی محاورے میں شیر کے لیے بھی یہ لفظ آتا ہے، کیونکہ وہ شکار پر جھپٹتے وقت تیوری چڑھاتا ہے۔
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ، نبی کریم ﷺ کے چچا، اور خلفائے عباسیہ کے جدِّ امجد جنہوں نے بغداد سے تقریباً پانچ صدیوں تک خلافت چلائی۔
مشہور افراد
-
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ
~۵۶۸–۶۵۳ ع·مکہ و مدینہنبی کریم ﷺ کے چچا، خلفائے عباسیہ کے جدِّ امجد۔
عربی جذر
عَبَّاس کا جذر
جذر ع-ب-س کا مطلب ہے سنجیدگی یا غضب میں تیوری چڑھانا۔ قرآنِ کریم میں آتا ہے «عَبَسَ وَتَوَلَّى» (عبس: ۱)۔ مبالغے کا صیغہ «عَبَّاس» شیر کے لیے بطورِ کنایہ استعمال ہوتا ہے۔
حروف کا مطلب
عَبَّاس کے حروف کیا ظاہر کرتے ہیں
عین سے ابتدا — بصیرت اور سرچشمے کا حرف۔ پھر با، ہیبت کا ظرف۔ پھر الف، نہ جھکنے والی قامت۔ آخر میں سین کھنچتی ہے، جیسے سانس یا گرج جو دیکھنے سے پہلے سنائی دے۔
قراءت
شخصیت اور تعلقات کا انداز
اس نام کے حامل اکثر باوقار، کم گو، اور موجودگی میں بھرپور پائے جاتے ہیں۔ آخری سین یاد دلاتی ہے کہ وہ دور سے با ہیبت اور قریب سے محبوب ہوتے ہیں۔
اسے فیصلہ نہیں، آئینہ سمجھ کر پڑھیں۔